Visit Our Official Web جنوبی ایشیاء اور بین الاقوامی امن کے ناسُور Dastan Gou Dastan Gou داستان گو

جنوبی ایشیاء اور بین الاقوامی امن کے ناسُور



 تحریر:  ڈاکٹر خالد مسعود صادق

اس حقیقت میں نا تو اب  کوئی ابہام رہا اور نہ تردّد کہ یہ کہا جائے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے تمام واقعات میں بھارت  افغان اتحاد مُتحرک ہے۔ پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے  اس اتحاد کی دہشت گرد کاروائیوں  کا شکار رہا ہے جس کو دوام دہشت گردی کی جنگ اور مغربی طاقتوں کے افغانستان میں مُفادات بھارت کی دہشت گردی کی جنگ میں امریکی پُشت پناہی نے بخشا۔  جب بھی پاکستان میں کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو فوراً سوال اٹھتا ہے کہ اس کے پیچھے کون ہے جس کا جواب سادہ سا ہے کہ جس کی تصدیق و تائید  کے تمام تر شواہد اور عالمی  میڈیا  یہی کرتے ہیں کہ  "پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور افغان گٹھ جوڑ کام کر رہا ہے۔" سوال یہ ہے بھارت کو پاکستان سے پرخاش کیوں ہے؟ جس کا جواب یہ ہے کہ تقسیم ہندوستان کو بھارت انتہاء پسند قیادت ابھی تک دل سے قبول ہی نہیں کرپائی۔

تاریخی اعتبار سے بھارت نے ہمیشہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی کوشش کی ہے۔ چاہے وہ 1971ء  میں مشرقی پاکستان میں  مُکتی باہنی اور مُجیب الرحمٰن جیسے ناعاقبت اندیش قائدین  کی برملا حمایت اور پاکستان کے خلاف  بغاوت کو ہوا دینا ہو یا حالیہ برسوں میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی مالی معاونت سب کے ڈانڈے  بھارت سے ہی ملتے ہیں اور پاکستان کے متعلق بھارتی   عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اسی طرح مارچ 2016ء  میں پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بلوچستان سے گرفتار کیا جو بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) کے لیے کام کر رہا تھا اور اس نے خود  یہ اعتراف  بھی کیا کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرنے اور علیحدگی پسندوں کو مالی امداد فراہم کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

بھارتی مُفکروں کی تحریریں اور میڈیا پروگرام پاکستانی دُشمنی کا برملا اظہار کرتے ہیں۔ اسی طرح  بھارتی  وزراء اور حکومتی اعلیٰ عہدیداران  متعدد بار اعتراف کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرتے ہیں اور پاکستان کو توڑنا ان کا مقصد ہے۔ اسی طرح  بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، کئی ریٹائرڈ جرنیلوں  اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ادول کی تقاریر میں "پاکستان کو اندر سے کمزور کرنے" جیسے  سر عام بیانات اور ٹھوس شواہد  ملتے ہیں بھی اسی طرف اشارہ کرتے نظر آتے ہیں۔

دہشت گردی کی جنگ کے دوران بھارت نے افغانستان میں پاکستانی مغربی صوبوں (بلوچستان اور کے پی) کے سرحدی علاقوں میں سترہ قونصل خانے یعنی را کے اڈے قائم کیئے جن کے ذریعے  بھارت بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں علیحدگی پسند اور دہشت گرد گروہوں کو ہتھیار اور مالی امداد کی فراہمی کا کام آج بھی رہا ہے۔

افغانستان   بھارت کے ساتھ ملکر پاکستان میں کئی دہائیوں سے پاکستان مخالف عناصر کو محفوظ پناہ گاہیں مُہیا کیئے ہوئے ہے جس کے ثبوت مُشرف دور کے وزیرخاجہ خورشید قصوری نے اپنی کتاب Neither Dove Nor A Hawk کے صفحات 278-279پر بیان کیئے ہیں۔ قصوری کے مطابق اس مکروہ کام میں افغانستان کے دو حکومتی وزیر بھی ملوث پائے گئے۔ افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانے کسی سے چھپے نہیں۔ افغان حکومتیں اور انٹیلیجنس ایجنسی این ڈی ایس (NDS) ٹی ٹی پی کو مدد فراہم کرتی رہی ہیں تاکہ پاکستان میں دہشت گردانہ حملے کیے جا سکیں۔ مُودی جیسا بین الاقوامی دہشت گرد تو میڈیا ریکارڈ کے مطابق خود اعتراف کرچکا ہے کہ "ٹی ٹی پی" بھارت کی تیار کردہ تنظیم ہے۔  اس بات کے بھی ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ جب آرمی  پبلک اسکول (APS)  پشاور کے معصوم طلباء و طالبات اور فی میل اساتذہ پر  جب حملہ ہوا ان دہشت گرد درندوں کو بھی افغان انٹیلیجنس کی پشت پناہی حاصل تھی۔ 

آج بھی افغانستان میں داعش، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہوں جو پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں میں ملوث ہیں  کو بھارت اور افغان انٹیلیجنس کی مدد حاصل ہے۔ ایسے گٹھ جوڑ کے مکروہ دھندے سے آج ناصرف جنوب ایشیائی خطے کا امن برباد ہے بلکہ  جس طرح چین پاکستان کے کئی اہم اشتراکی منصوبے جیسا کہ سی پیک اور گوادر پورٹ پراجیکٹ کو اگر خطرہ ہوا تو پاکستان  کے ردعمل   کو اگنور کرنا عالمی برادری کا جُرم تصور ہوگا اور یہی  بین الاقوامی برادری کی خاموشی  کسی عالمی ٹکراؤ کا پیش خیمہ بھی بن سکتی ہے۔ پاکستان نے  اگرچہ بارہا عالمی برادری کو ثبوت فراہم کیے ہیں کہ بھارت اور افغانستان دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں، مگر بدقسمتی سے مغربی دنیا بھارتی خوشنودی کی خاطر بھارت  کے جرائم پر  پردہ بھی ڈالے ہوئے ہے اور اسے جوابدہ  بھی نہیں ٹھہراتی۔  جس طرح ماضی میں پاکستانی افواج اور انٹیلیجنس اداروں نے المیزان،  ردالفساد اور ضربِ عضب جیسے آپریشنز کے ذریعے دشمنوں کی کئی سازشوں کو ناکام بنایا اسی طرح سُنیند ہے کہ پاک فوج اس گٹھ جوڑ کے خلاف اب "البدر" کے نام سے ایک میگا اپریشن کرنے جارہی ہے۔  لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پاکستان اور پاکستانی قوم کو داخلی طور پر مزید مضبوط، مربوط اور مُتحد کیا جائے تاکہ دشمنوں کی ہر چال کو ناکام بنایا جاسکے۔ اسی طرح  پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو اسلحہ اور تربیت کے لحاظ سے  مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی بھارت اور افغانستان کی تخریب کاریوں کو  ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر عالمی برادری کے سامنے لانے کی اشد ضرورت ہے  تاکہ  عالمی امن کے اس ناسور گٹھ جوڑ کو توڑا کر جنوبی ایشیاء اور پوری دُنیا کو محفوظ، پُرامن اور خوشحال  بنایا جاسکے۔

پاکستان زندہ باد!

Next Post Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url