مدینہ طیبہ سے ریاض کا سفر(تیسری قسط)
کو ہ سلیمان سے
احمد خان لغاری
اپنے سفر نامہ کی پہلی اور دوسری قسط میں سعودی عرب کے شہر القصیم کا ذکر کیا گیا جو کھجوروں کے اعتبار سے معروف ہے اور مدینہ سے ریاض موٹر وے کے قریب ہے۔ اپنی تحریر میں لفظ "القسیم " لکھا ہے جبکہ سعودی عرب کے شہر مکہ سے برادر عزیز سعد اللہ بلوچ نے درستی کی ہے کہ یہ لفظ القسیم نہیں بلکہ "القصیم "ہے یعنی 'س 'کی بجائے 'ص' سے لکھا جاتا ہے۔ نہایت شکر گذارہوں کہ میری درستی فرمائی۔ قارئین کرام اپنی دوسری قسط کے آخر میں نظام صحت کے حوالے سے لکھا تھا کہ اگلی قسط میں تفصیل بیان کروں گا۔ ریاض میں مجھے بتایا گیا کہ اب علاج معالجہ سے کام بہت آگے بڑھ گیا ہے۔ اب ٹرنسپلانٹ کیے جاتے ہیں جسمیں، گردے، جگر، پھیپھڑے، دل، فالج کا علاج اور بھی دیگر علاج اور ٹرنسپلانٹ کامیابی سے کیے جارہے ہیں۔ اس میں اہم بات یہ ہے کہ ایک سرکاری ہسپتال میں گردے کے تین سو سے زائد ٹرانسپلانٹ کیے گئے ہیں، دیگر ہسپتالوں میں جو ریاض میں کافی تعداد میں کام کر رہے ہیں پرائیویٹ ہسپتال بھی ہیں لیکن سرکاری طور پر چلنے والے ہسپتالوں کا اپنا معیار ہے، تین سو سے زائد گردوں کے ٹرنسپلانٹ سرکاری ہسپتال کے مبینہ اعداد و شمار ہیں۔ دیگر سرکاری اور پرائیویٹ ہسپتالوں میں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہ صرف گردوں کے ٹرانسپلانٹ کا ذکر کیا گیا ہے دیگر اعضا ان کے علاوہ ہیں۔ قارئین کرام! عرب لوگ جنہیں بدو کہا جاتا تھا، ساتھ ہی اُمیّ کہا جاتا رہا ہو لیکن انہیں عربی ہونے پر جو فخر ہے وہ چودہ سو سال پہلے بھی تھا اور آج بھی ہے لیکن مزاج کی وجہ سے وہ حضور کریم ؐ کو راعنا کہتے تو ارشاد ہوا کہ راعنا مت کہا کریں بلکہ حضور کریم کو جب بھی مخاطب کریں تو انظر نا کہا کریں۔ راعنا کہنے والوں پر وہ اثرات ہوئے کہ آج جہاں اللہ کی راہ میں زیادہ مال خرچ کرتے ہیں وہیں وہ اپنے جسمانی اعضا مرنے سے پہلے ڈونیٹ کرتے ہیں اور وصیت کے مطابق وہ اعضا نکال کر کسی مستحق کو لگا دیے جاتے ہیں اور وہ ایک عرصہ تک زندہ رہتے ہیں، ان اعضا میں آنکھوں والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ دوسری طرف اپنے بیمار اور ضرورت مند شخص کو اگر گردوں، جگر کی ضرورت پڑ جائے تو اپنی اولاد اور قریبی اعضاء پیش پیش ہوتے ہیں اور وہ ہسپتالوں میں اعضا دینے کیلئے موجود ہوتے ہیں جو محض اپنے باپ، ماں بھائی ہوتے ہیں جو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور اللہ کی رضا کیلئے بھی یہ سب کچھ کر گذرتے ہیں۔ چند لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنی مالی ضرورت کے پیش نظر اپنی مرضی سے دیتے ہیں۔ جنہیں سرکاری سطح پر معاوضہ ادا کر دیاجاتا ہے تاکہ ضرورت مند اپنی ضروریات پوری کرسکیں۔عرب قومیت کے لوگ اپنی معاشرت و ثقافت سے جڑے ہوئے ہیں، اونٹ گھوڑوں اور بھیڑ بکریاں رکھنے کا آج بھی شوق ہے، شہر میں یا دیہات میں جائیں یا کہیں سے گذر ہو اونٹ اور گھوڑوں کی نقل و حمل بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ گوشت کے شوقین ہیں اور گوشت کی بنی ہوئی مزیدار چیزیں کھانے کے دلدادہ ہیں، یہ لوگ ہفتہ وار چھٹیوں پر باہر نکل جاتے ہیں اپے خاندان کے لوگ ریت پر خیمے لگاتے ہیں، کھانے پکاتے ہیں اور رات گذار کر صبح اپنے گھر والوں کے ساتھ واپس آجاتے ہیں، یہ دیہات میں اپنے فارم ہاؤسز پر بھی اسی طرح وقت گذارتے ہیں لیکن ریت پر رہنا انہیں پسند ہے۔ ہر قسمی لوگ رہتے ہیں، شرفا کی کمی نہیں ہے لیکن نوجوان گاڑیاں بھگانے اور بھاری مالی نقصانات کر گذر تے ہیں، لڑائی جھگڑا اور قبائلی جھگڑے آج بھی موجود ہیں۔
مذہب اور دین سے لگاؤ کا پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ اللہ کی راہ میں غریبوں، مساکین، یتیموں کی بھر پور مدد کرتے ہیں، اپنے قریبی اقربا جو کمزور ہوں انکی مدد ضرور کرتے ہیں سارے ہی امیر نہیں ہیں، کمزور اور نادار لوگ بھی موجود ہیں، جو مسجد کے باہر کھجور بیچ رہے ہیں، آب زم زم کی بوتلیں بیچ رہے ہیں وہ غریب ہی ہے اگر چہ وہ اس ملک کا عربی جیسے مقامی کہا جاتا ہے وہ دیگر علاقوں سے یمن، مصر، شام اور افریقی ممالک سے ہوسکتے ہیں کیونکہ سعودی عرب کی کل آبادی چار کروڑ ہے۔ جسمیں ڈیڑہ کروڑ باہر کے لوگ ہیں۔ پاکستانی انڈیا بنگلہ دیشی، ملائشیا اور انڈونیشیا اور فلپائن کے لوگ تو غربت کی وجہ سے ہی وہاں مقیم ہیں لیکن مقامی بھی سارے امیر نہیں ہیں۔ پھر بھی بچوں کو مسجدوں میں ساتھ لاتے ہیں، دنیاوی علوم سے بھی بہر ور ہورہے ہیں، بچوں کے نام زیادہ تر صحابہ کرام کے ناموں سے متاثر ہوکر رکھے ہوئے ہیں۔ چونکہ وہاں رہنے والے صحابہ کرام، تابعین کی اولادیں ہیں جو ابھی تک نامور صحابہ کرام سے اپنی اولادوں سے منسوب کررکھا ہے اور اس پر خوش ہوتے ہیں کہ اپنے آباؤ اجداد کے ناموں سے اپنے قبائل کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ سرکاری طور پر بھی تمام شہراؤں اور دیگر چھوٹے راستوں حتی کہ گلی محلوں کی سڑکوں کو بھی اپنے آباؤ اجداد، صحابہ کرام، اہل بیت رضوان اور اپنے مشاہیر، فرماں رواؤں کے ناموں سے منسوب کررکھی ہیں غیر ملکی مسلم نامور سیاستدان اور امت مسلمہ کے نامور شخصیات کے ناموں پر رکھے گئے ہیں، شاہر ات، سڑکوں اور گلیوں کے علاوہ خوبصورت بات یہ بھی دیکھی گئی کہ شہر میں چلنے والی بسوں کے روٹ بھی اصحاب رسول کے نام پر چلتی ہیں، سعودی شاہوں، انکی اولادوں کے ناموں پر بھی شاہراؤں سے منسوب ہیں انشاء اللہ اگلی قسط میں مختلف شاہراؤں کے نام اور دیگر معلومات سے آگاہ کروں گا۔