مدینہ طیبہ سے ریاض کا سفر(دوسری قسط)
کو ہ سلیمان سے
احمد خان لغاری
گذشتہ قسط میں سعودی عرب کے مشہور شہر القسیم میں نماز مغرب کی ادائیگی کا ذکر کیا تھا نماز کے بعد چائے پی اور آگے کا سفر شروع کیا۔ القسیم کھجوروں کی ورائٹی کے اعتبار سے مشہور زمانہ ہے اور ان کھجوروں کے باغات کو باالخصوص پاکستانی ٹھیکہ پر بھی لیتے ہیں اور کھجوریں اتار نے اور خرید و فروخت کا کام بھی کرتے ہیں۔ ریاض میں بسنے والے اکثر عربی القسیم کے ہی رہائشی تھے جو اب ریاض میں آباد ہیں اور اپنے کاروبار میں مصروف ہیں۔ اب وہ امیر لوگ ہیں کھجوروں کے علاوہ دیگر کاروبار بھی کرتے ہیں اور نماز کے بھی پابند ہیں، نماز کے اوقات میں وہ جہاں بھی موجود ہوں نماز پڑھتے ہیں، جائے نماز، پانی وغیرہ کا اہتمام رکھتے ہیں۔ اگرچہ دوران سفر زراعت کی زرخیزی نظر نہیں آئی لیکن چند جگہوں پر ٹنل فارمنگ دیکھی گئی سبزیاں کاشت کی گئی ہیں اور ہر یالی نظر آئی، بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات، گیس کھجوروں کے بعد گندم میں بھی خود کفیل ہے اور ترقی کی یہی رفتار رہی تو آنے والی دھائیوں میں سعودی عرب ایک اہم ملک ہوگا، مذہبی اور دینی اعتبار سے تو اب بھی قابل قدر ہے لیکن جن شعبوں پر وہ کام کر رہے ہیں اور سعودی پرنس محمد بن عبداللہ کے وژن 2030کھل کر سامنے آجائے گا۔اور سعودی عرب کیا سے کیا ہوجائے گا اس کا اندازہ لگنا مشکل نہیں ہے۔ القسیم سے آگے جیسے جیسے اندھیرا چھا رہا تھا، جگنو ؤں کی طرح روشنی خوبصورت منظر پیش کر رہی تھی۔ ان روشنیوں سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ اب ریاض زیادہ دور نہیں ہے، اگر چہ سینکڑوں میل کی دوری پر تھا۔ لیکن روشنی اور آبادی سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ منزل قریب آرہی ہے۔ ریاض شہر تقریبا ستر اسی کلو میٹر چوڑائی، لمبائی پر محیط ہے۔ ریاض شہر میں زیادہ دن گذارنے پر کمیونٹی جہاں رہائش پذیر تھے، قریبی مسجد میں نمازیں پڑھنے کے مواقع ملے۔ایک ہی وقت میں تمام مساجد میں نماز ادا کی جاتی ہے۔ البتہ جمعہ کے لیے مسجدیں مخصوص کردی گئی ہیں یا دیگر مساجد میں جمعہ کے اجتماع نہیں ہوتے اور سرکاری سطح پر موضوعات منتخب کرکے امام مسجد خطبہ پڑھتا ہے جو تحریری شکل میں ہوتا ہے اورساڑھے بارہ بجے نمازجمعہ سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ نماز مغرب کی آذان کے بعد لوگ آتے رہتے ہیں اور دونفل انفرادی طور پر اداکرتے ہیں اور اس عمل کو پندرہ منٹ لگ جاتے ہیں۔
بعدازاں نماز مغرب ادا کی جاتی ہے۔ دیگر نمازوں کا یہی طریقہ اپنایا جاتا ہے۔ ہر مسجد میں پانی کی بوتلیں اور کھجوریں دستیاب ہوتی ہیں، حسب ضرورت نمازی وہ اٹھا سکتا ہے، جمعہ کے اجتماعات کے بعد کھجوریں فروخت کرنے والے بھی موجود ہوتے ہیں تما م لوگ اپنی پسندیدہ کھجور خریدتے ہیں۔ مسجد کے بہت قریبی رہائشی لوگ پیدل مسجد تک جاتے ہیں، تھوڑا فاصلے والے اپنی گاڑیوں پر پہنچتے ہیں اور سڑکیں تقریبا بند ہوجاتی ہیں جس کو جہاں جگہ ملی وہ اپنی گاڑی پارک کردیتا ہے، اگر کوئی سمجھتا ہے کہ نماز اور جمعہ کی ادائیگی کے لیے اس نے مناسب جگہ پر گاڑی پارک نہیں کی اور نماز سے فراغت کے بعد وہ اپنی گاڑی کو جلد نکالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ کسی کو مشکل پیش نہ آئے۔ مقامی لوگ صحیح معنوں میں اللہ کی طرف سے دیے گئے رزق سے خرچ کرنے کے عادی ہیں، کوئی سائل ہو یا مساجد کی ضروریات ہوں ہر شخص پہلے دستیاب ہوتا ہے۔ اگر چہ مساجد کا کنٹرول حکومتی کنٹرول میں ہوتا ہے۔ تاہم وہ مسجد میں کسی بھی ضرورت کو پورا کرنے کیلئے مسجد انتظامیہ سے رابطے میں رہتے ہیں پانی کھجور کے علاوہ مساجد کے قالین بھی بدل دیتے ہیں۔ رمضان المبارک میں وہ یہ کام بہت دلچسپی سے کرتے ہیں تاکہ مساجد ہر لحاظ سے منفرد نظر آئیں۔ مذہبی شعبہ میں ان کی خدمات اپنی جگہ اہم ہیں، مکہ، مدینہ میں تو غریبوں مساکین اور مسافروں کیلئے کھانے کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں روزہ افطاری اور سحری کے قابل رشک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں۔ چھوٹے ریستورانٹس پر مقامی لوگ رقم جمع کرادیتے ہیں کہ جو بھی مسافر حج، عمرہ کے لیے باہر سے آیا ہو اسے کھانا کھلائیں رمضان المبارک میں یہ اہتمام خصوصی طور پر کیا جاتا ہے۔ ریاض میں بھی امرا اور رؤسا لوگ ہیں وہ اس کام کو فرائض کے طور پر سرانجام دیتے ہیں۔ بات ریاض شہر کی ہورہی تھی تواتنا بڑا شہر لوگوں کیلئے کم پڑرہا ہے اور شرقاً، غرباً، شمالاً، جنوباً پھیلتا جارہا ہے۔ عام لوگوں کو چھوٹے ملازمین کو ٹریفک کے دباؤ کی وجہ سے دفاتر بروقت پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔حکومت نے ریاض شہر میں میٹرو کا ایک طویل انفراسٹرکچر تیار کیا ہے جو عام ملازمین اور عام شہری کی مشکلات کے پیش نظر آغاز کیا ہے۔ جو پورے شہر کے مختلف روٹوں پر دستیاب ہوتی ہے، لوگ اس سہو لت سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔اور میٹرو کی خوبصورت بسیں شہر کے بیچ و بیچ ایک بلندی سے گزرتی ایک خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہیں۔ بادشاہی نظام کے باوجود حکومت اپنے شہریوں کو تمام سہولتیں دے رہی ہے حالانکہ پیٹرول اتنا مہنگا نہیں ہے لیکن میٹرو ایک عام شخص کیلئے بہت بڑی سہولت ہے۔ مذہبی اور دینی فرائض کی انجام دیہی کے ساتھ عربی لوگ صحت کی سہولتوں میں کیا کردار اداکررہے ہیں انشاء اللہ اگلی قسط میں تحریر کروں گا۔ علاج معالجہ کی سہولتوں کے ساتھ اب جسمانی اعضاء کی ٹرانسپلانٹ بھی تیزی سے ہورہی ہے اور یہ جذبہ نہایت قابل تعریف ہے اور جسمانی کونسے اعضاء فوت ہونے سے قبل ڈونیٹ کرتے ہیں تفصیل آئندہ قسط میں ملاحظہ فرمائیں۔