Visit Our Official Web غلطی کہاں پر ہوئی؟ Dastan Gou Dastan Gou داستان گو

غلطی کہاں پر ہوئی؟

غلطی کہاں پر ہوئی؟

 تحریر : افضال گل


ملک پاکستان اللّٰہ تعالیٰ کے رازوں میں ایک راز کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا۔یہ ملک یہاں پر اکثریت چور اور ملک دشمن ہونے کے باوجود بھی قائم ہے۔میرے ملک میں ایک روپے سے لیکر اربوں کھربوں تک کے چور موجود ہیں۔یہاں تک کہ کام چور بھی پائے جاتے ہیں۔

اس ملک کو ہر طرف سے لوٹا جا رہا ہے۔مگر پتہ نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کن مخلص لوگوں کی وجہ سے اس کو قائم رکھے ہوئے ہے۔یا کون سا ایسا کام اس ملک سے لینا ہے۔جو یہ ٹوٹنے کے بعد بھی پہلے سے زیادہ طاقتور ہوا ہے۔

ابھی کل کی ہی بات ہے کہ امریکہ بہادر کو پاکستانی میزائلوں کا خوف رات کو سونے نہیں دے رہا ہے۔جس کا اظہار وہ پہلے بھی وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے۔

اس وقت پاکستان ملکی بلند ترین مہنگائی اور بلند ترین قرضوں کے اندر جکڑا ہوا ہے۔عوام پریشان حال اور آئے دن نوجوان ڈنکی کی صورت سمندر برد ہونے کو ترجیح دیتے ہوئے ڈوب مرتے ہیں۔اپنی قیمتی جانوں کا ضیاع کرتے ملتے ہیں۔

ملک میں ہیجانی کیفیت بنی ہوئی ہے۔ایک تعداد افواج پاکستان کے سپہ سالار پر تنقید کرتی ملتی ہے۔اور ایک تعداد عدلیہ پر تنقید کر رہی ہے۔گو کہ ہر طبقہ اس وقت پریشان ہے۔چاہے وہ بیس ہزار تنخواہ لے رہا ہے۔یا ساٹھ ہزار ، لاکھ ڈیڑھ لاکھ لے رہا ہے۔آخر کوئی تو وجہ ہے جو یہ ملک یہاں تک پہنچا ہے۔عوامی رائے لینے کی کوشش کی تو کسی نے 2018 سے پہلے ملک کو بہتر کہا۔کسی نے پی ٹی آئی دور کو ملکی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہرایا تو۔کسی نے ن لیگ اور پی پی کو اس کا زمہ دار کہا۔تو کسی نے اس سب کی زمہ داری پاک فوج پر ڈال دی کہ حکومت بناتے اور اتارنے والی طاقت اسٹبلشمنٹ ہے۔

مگر میری رائے ان سب سے مختلف رہی۔اور کئیوں کو تو میں مطمئن کرنے میں کامیاب بھی رہا۔ماسوائے پی ٹی آئی والوں کو۔کیونکہ اس وقت وہ خود کو اور خان صاحب کو دنیا کی بہترین مخلوق سمجھتے ہیں۔اور باقیوں کو انسانی درجہ دینا بھی اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ورنہ نو مئی سانحہ فیض آباد ساہیوال اور اب ملک کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے سول نا فرمانی کی کال نا دیتے۔

میری سوچ اور نظریہ کے مطابق اس ساری ملکی تباہی اور اس نظام کی تباہی کی وجہ ہم خود عوام ہیں۔ہم نے اپنی عقل کو کبھی بھی خود استعمال نہیں کیا۔ہم نے کبھی بھی یہ نہیں سوچا کہ ملک کس طرح بہتر ہوگا۔اور ملک کو بنانے کا مقصد کیا تھا۔

ہم نے ہمیشہ ان کی پیروی کی جنہوں نے صرف اپنا مقصد نکالنے کیلئے ہمیں استعمال کیا۔جیسے کہ ن لیگ نے اپنے کیسیز ختم کروانے کیلئے۔سپریم کورٹ آف پاکستان پر دھاوا بولنے کیلئے عوام کو استعمال کیا۔مگر جب حکومت ملی تو اپنے قریبیوں کو خوش کرنے کیلئے ہر حربہ استعمال کیا۔اپنی من پسند آئی پی پیز کو نوازنا عوامی مفاد سے بہتر سمجھا۔

ججز بحالی کے نام پر عوام کو استعمال کیا اور اپنی پسند کے فیصلے کروائے۔اور عوام کو شفاف انصاف ملنا مشکل بلکہ نا ممکن ہو گیا۔

پی ٹی آئی نے اپنی سیاسی ساکھ کو بچانے اور اداروں پر دباؤ ڈالنے کیلئے۔ہم عوام کو استعمال کیا اور خود سائیڈ پر ہوگئے۔عام لوگوں کو سزائیں ملنا شروع ہو گئیں ہیں۔

ہر پارٹی کے بندے نے اپنے چور کو سزا دلوانے سے پہلے دوسرے چور کو پکڑنے کی بات کی۔

ن لیگ والوں نے کہا کہ پہلے پی پی کے چور گرفتار کرو۔پی ٹی آئی والوں نے پہلے ن لیگی اور پی پی کے چوروں کو سزائیں ملنا چاہیے کہا۔اس سے یہ بات تو واضع ہو گئی کہ عوام مانتی ہے کہ یہ سارے چور ہیں۔

اور چور کی سب سے بڑی نشانی چور مچائے شور والی ہے۔ہر سیاسی پارٹی خود چور ہے۔مگر ہر پارٹی اپوزیشن میں آتے ہی افواج پاکستان کو نشانے پر رکھ لیتی ہے۔کوئی 70% فیصد بجٹ کھانے کا طعنہ دیتا ہے۔تو کوئی رجیم چینج کا نام رکھ لیتا ہے۔

ہم عوام نے کبھی یہ دیکھا ہی نہیں کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد ساری زندگی محنت کرتے رہے ہیں۔مگر ایک گھر بنانا مشکل بلکہ نا ممکن ہوتا ہے۔مگر جیسے ہی کوئی سیاست میں کامیاب ہوتا ہے۔اس کی آنے والی نسلوں کا سدھر جاتا ہے۔ہم عوام نے کبھی یہ سوچا ہی نہیں کہ ہمارے بزرگوں نے کس وجہ سے اپنی جانیں اور مال قربان کیا۔ہم نے کبھی اس طرف توجہ ہی نہیں دی کہ اس ملک کو بنانے کی وجہ کیا تھی؟

جب بھی کسی قوم کا ایک مقصد نہیں رہتا۔وہ قوم نہیں بلکہ ہجوم بن جاتا ہے۔اور ہم اس وقت چوبیس کروڑ عوام کا ہجوم بن چکے ہیں۔جب 23 مارچ 1940 کو پاک و ہند کے مسلمان ایک مقصد پر متفق ہوئے۔انہوں نے ہر طرح کی قربانی دینے کا عہد کیا۔اور مختصر سے سات سال میں دنیا کے نقشے پر پاکستان کا پرچم لہرا کر دکھایا۔جو کہ آج تک لہرا رہا ہے۔

مگر پچھلے چند سالوں میں یہ ملک اب ڈی ریل ہوا کہ اب ہوا تک کا سفر طے کرنے میں صرف حکمرانوں کا قصور نہیں ہے۔ہم عوام ہی حکمرانوں کو طاقت دیتے ہیں۔جب عوام حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کا کرتا پکڑ کر سوال کرنے والی ہو تو حکمران تب ہی عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ جیسا ملتا ہے۔

اور اگر عوام 120 دن دھرنے میں ناچنے والی ہو تو حکمران بھی غزوہ احد کے صحابہ کو معاذاللہ لوٹ مار کرنے لگ پڑے کہنے والا ملتا ہے۔توشہ خانہ کو مجھے ملا ، میرا حق بنتا ہے کہنے والا ملتا ہے۔

جب عوام خود قبضہ مافیا ہو تب حکمران بھی قبضہ مافیا ہی ہوتے ہیں۔جب عوام ہی اپنی ملازم کو اتنی تنخواہ دیں کہ ملازم مجبو ہو کر چوری چکاری کرے۔تو حکمران بھی چوری ہی کریں گے۔جب ہم عوام ہی اپنے ہمسایوں کو ان کے حقوق نہیں دیں گے۔تو حکمران بھی ہمارے حقوق سلب کرنے والا ہی آئے گا۔ہمارا درمیانہ طبقہ جانتا ہے کہ پندرہ ، بیس ، بچیس یا تیس ہزار میں گزارا نہیں ہوتا۔مگر ملازم کو اس سے زیادہ تنخواہ نہیں دے سکتے۔خود ہر روز ہزاروں خرچ کرنے والے بھی یہی کہتے ہیں۔تو پھر حکمران بھی ایک لاکھ بیس ہزار میں پارلیمنٹیرینز کا گزارا کیسے ہوگا کہنے والے آتے ہیں۔قصوروار صرف حکمران ہی نہیں ہیں۔ہم عوام بھی اس میں ملوث ہیں۔ اور حکمرانوں کو اس لوٹ مار کا اختیار دیتے ہیں۔ہم ان سے سوال نہیں کرتے۔بلکہ ان سے سوال کرتے ہیں۔جن سے وہ ہمیں سوال کرنے کا کہتے ہیں۔ابھی سانحہ نو مئی ہی لے لیں۔جس کے ہر طرح کے وڈیو آڈیو ثبوت ہیں۔تحریک انصاف کی قیادت نے اس کا اعتراف بھی کیا کہ یہ گرفتاری کے بعد آنے والا ری ایکشن ہے۔جس کا نقصان صرف اور صرف ملک اور عام عوام کا ہوا۔کسی کے ایجنڈے کو کسی نے پورا کیا۔اور وہ بھی ہم عوام کی مدد سے۔ہم عوام نے سانحہ نو کرنے والوں کی بجائے۔جن کے ساتھ ہوا، ان سے سوال کرنا شروع کر دئیے۔ہماری شخصیت پرستی اور اندھے اعتماد کا غلط استعمال کیا جاتا رہا۔

ہم نے خود کو ان کا غلام بنا لیا ہے۔ہمیں اس ملک کو بنانے کی بجائے۔اس ملک کو تباہ کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اب ہم عوام کو ہی اس ملک کی بہتری کیلئے سوچنا اور کرنا ہوگا۔ہمیں اس قیادت کو لانے کی ضرورت ہے۔جو اس ملک کی بنیاد کو سامنے رکھ کر آگے لیکر چلیں۔نا مغرب کی روشنیاں دکھا کر اندھیرے کی طرف لے جانے والے۔ہمیں اپنا ایمان پاکستان کو اسلام کا قلعہ بنانا ہے اپنانا ہوگا۔ہمیں اس بات کا تو پتہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔مگر تیاری ہم نے دنیا کو بنانے کی ہوئی ہے۔ہم عوام نے حقیقت کو چھوڑ کر اس کی پیروی شروع کر دی جس کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔ہم عوام نے یہ تک بھلا دیا کہ ہمارا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے۔اس ملک کو ہمارے بزرگوں نے کس لئے حاصل کیا تھا۔کس لئے ہمارے بزرگوں نے اپنے ہاتھ بازو ٹانگیں کٹوائیں۔غلطی بس یہاں ہی ہوئی ہے۔ہم یہ سب بھول گئے۔ہم حکمرانوں اور خود سے پوچھنے کی بجائے۔ہمیشہ دوسرے سے پوچھتے ہیں۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمارے ملک اور ہم کو ویسا بنا دے۔جس کی ہمارے بزرگوں نے خواہش اور جس کی خاطر جدوجہد کی تھی۔ہمیشہ ملک اور قوم کے وفادار رہیں۔نا کہ ان جمہوروں کے جو صرف اپنے مفادات کا سوچتے ہیں۔ورنہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے گا۔آئی ایم ایف سے مزید قرض لینا پڑے گا۔ملک ڈی ریل ہونے کے قریب ہے۔ہمیں اپنا ایٹم بم بیچنا پڑے گا۔نہیں گروی رکھنا پڑے گا۔ملک میں خانہ جنگی کا عالم ہے۔اس ملک کو اس نہج پر پہنچنے سے روکنے کا۔یہ آخری موقع ہے۔عوام نے ان حکمرانوں کی عیاشیوں اور ان کے ذاتی مفادات کی خاطر بہت قربانیاں دے دیں۔

اب ان کی قربانی دینے کی باری ہے۔ہم عوام نے ان کے کہنے پر بہت سوالات کر لئے۔اب ان سے سوال کرنے کی باری ہے۔اب عوام کو ایک قوم ایک منزل کی جانب لوٹنے۔اور اس پر عمل کرنے کی باری ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ اس ملک کو صدا سلامت رکھے۔اور اس ملک میں اسلامی نظام لانے والوں اور اس کی حفاظت کی خاطر جانیں دینے والوں کو اللّٰہ تعالیٰ کامیابی عطا فرمائے۔آمین

Next Post Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url