ایک اور سازش میری ریاست کے خلاف
تحریر : افضال گل
کوئٹہ اس وقت پنجابیوں کیلئے قبرستان ثابت ہو رہا ہے۔پے در پے دہشتگردانہ کارروائیاں اور بے گناہ مزدوروں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔پہلے تو دہشتگرد وہاں پر بلا تفریق پنجابی ، بلوچ ، سندھی یا پٹھان کا فرق کئے بغیر سب کو شہید کرتے تھے۔مگر اب صرف پنجابی نشانے پر ہیں۔یہ بلوچستان یا پاکستان کی تاریخ کا کوئی پہلا واقعہ تو نہیں ہے۔مگر اللّٰہ کرے کہ یہ آخری ہو۔آمین
مری عمرِ تقریباً سینتیس سال ہے۔میں نے بینظیر بھٹو کا تھوڑا سا دور یاد ہے۔اس کے نواز شریف ، جنرل پرویز مشرف صاحب ، زرداری اور اب تک کے حالات پر نظر رکھی ہوئی ہے۔
اخبار گردانی رسالے اور خاص طور پر ضرب مومن لازمی پڑھتا تھا۔مشرف دور سے پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں۔جس کو کبھی مشرف صاحب کے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کا جواب کہا جاتا تھا۔اگر اس طرح کے واقعات اور ان میں شہید ہونے والے افراد اور ان کی تعداد کے بارے میں لکھوں تو تحریر بہت طویل ہو جائے گی۔ان کا ذکر پھر کسی تحریر میں کروں گا۔مگر آج اور گزشتہ ہونے والے واقعے میں دو افراد میرے جاننے والے بھی شامل تھے۔جن کو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں۔دونوں ہی بڑے نفیس انسان تھے۔آج کے واقعے میں شہید ہونے والا سفیان نوجوان اور کوئٹہ میں فرنس لوہے کی بٹھی پر کام کرتا تھا۔جو چھٹی پر گھر آ رہا تھا۔چند دن پہلے میری اس سے فون پر بات ہوئی۔
میں جانتا ہوں کہ یہ عام لوگوں کو شہید صرف ملک میں انارکی اور پنجابیوں کو بلوچوں سے لڑانے کیلئے کیا جاتا ہے۔اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ان شہیدوں کا لہو رائگاں نہیں جائے گا۔ان کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔میں جانتا ہوں کہ افواج پاکستان دن رات اس ملک کی سرحدوں اور اندرون ملک ان کا اور ان کی سوچ رکھنے والوں کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہے۔مگر میرے ذہن میں صرف ایک سوال بار بار آتا ہے کہ ریاست اس وقت کہاں کھڑی ہے؟
ایسے واقعات کو روکنے کیلئے صرف پولیس ہی کافی ہے!!! والے بیان کے ساتھ کھڑی ہے۔یا اس طرح کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتی ہے؟
کچے میں کتنے ڈاکو ہوں گے۔دس ہزار ، چالیس ہزار کیا وہ ریاست سے طاقتور ہیں؟
کوئٹہ والے دہشتگرد تو ایسا واقع کرنے کے بعد عام آدمی بن جاتے ہوں گے۔یا بارڈر پار چلے جاتے ہوں گے۔مگر کچے کے ڈاکو تو وہاں ہی رہتے ہیں۔سوال پھر وہی کہ ریاست کس کے ساتھ کھڑی ہے۔ان کے نمٹنے کیلئے صرف ایک ایس ایچ او ہی کافی ہے!!!!!
والے بیان کے ساتھ یا سچ میں عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔اگر ایس ایچ او والے بیان کے ساتھ کھڑی ہے تو پہلے اس ایس ایچ او کو ہی ٹھیک کر لیں۔جو ریاست سے تنخواہ ، بجلی گیس ، گاڑی کا تیل موبائل خرچ، جیب خرچ عوام سے گھر خرچ علاج تک فری لیتا ہے۔اور واپس کیا دیتا ہے۔کچھ بھی نہیں،بدلے میں چوروں ڈاکوؤں ، اغوا برائے تاوان ، قاتلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔
ریاست عوام سے ٹیکس پر اضافی ٹیکس اور اس پر مزید ٹیکس لینے کے بدلے کیا دے رہی ہے۔لاکھوں کی تنخواہیں لینے والے۔شاہی پروٹوکول لینے والے۔دوسرے ممالک میں فری علاج اور سیر کے ٹکٹ لینے والے۔بدلے میں عام آدمی کو کیا دے رہے ہیں۔دہشتگردوں ، قبضہ مافیاز ، آئل مافیاز ، آئی پی پیز مافیاز ، چینی مافیاز ، کھاد زرعی اجناس کے مافیاز ، آٹا مافیاز، یہاں تک کہ اب ملک میں وکلاء مافیا اور ڈاکٹرز مافیاز کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔مزدور کی آدھی تنخواہ حکمران مافیا لے لیتے ہیں۔اور باقی تنخواہ حکمرانوں کے اتحادیوں کی جیب میں چلے جاتے ہیں۔بدلے میں کیا دیا جاتا ہے؟
آخر کب تک یہ سلسلہ چلے گا۔ریاست کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اب کس کے ساتھ کھڑے ہونا ہے۔عوام یا ایس ایچ او کے بیان کے ساتھ۔
خون کبھی رایگان نہیں جاتا۔اس ملک کی بنیاد سے لیکر آبیاری تک مزدوروں اور جوانوں کا لہو شامل ہے۔ظلم کبھی بھی قائم نہیں رہے گا۔اللہ تعالیٰ شہدائے کوئٹہ کے درجات بلند فرمائے۔اور ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین۔
اور اس ملک کو اس کی بنیاد پر دوبارہ واپس لائے۔اور ان ظالم حکمرانوں اور اس ظالم نظام سے ہم کو محفوظ رکھے۔آمین