Visit Our Official Web مدینہ سے ریاض کا سفر Dastan Gou Dastan Gou داستان گو

مدینہ سے ریاض کا سفر


کو ہ سلیمان سے 
احمد خان لغاری 

مدینہ سے ریاض جوکہ سعودی عرب کا دارلخلافہ ہے تقریباً آٹھ سو کلو میٹردور ہے، لق دق صحرا جسمیں مختلف رنگوں کی ریت اور ٹیلے، چھوٹے بڑے پہاڑ دیکھ کر دنگ رہ گیا، بڑی موٹر وے جس کے اطراف میں مضبوط باڑ لگی ہوئی تھی تاکہ کوئی شخص یا جانور موٹروے تک نہ پہنچ پائے، کیونکہ اس پر تیز رفتار گاڑیاں چلتی ہیں، گاڑی میں کوئی سوار شخص یا فیملی نماز کیلئے رکا ہے یا پھر کسی حاجت کیلئے رکا ہے تو پتہ چل جاتا ہے۔لیکن اگر گاڑی میں خرابی یا اور کسی مشکل میں نظر آئے تو لوگ سائیڈ پر رک رک کرنہ صرف اس سے پوچھتے ہیں بلکہ اس کی مدد کرتے ہیں، یہ اچھا جذبہ خیر سگالی بھی قابل ذکر ہے۔ موٹروے پر مختلف مقامات پر کیمرے نصب ہیں جس سے گاڑیوں اور سواریوں پر بھی نظر رکھی جاتی یعنی مکمل مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ کیمروں کے درمیانی فاصلے میں لوگ اپنی سپیڈ بڑھا دیتے ہیں، جونہی کیمرہ نزدیک آتا ہے آگے چلنے والا گاڑی کے مخصوص انڈکیٹر سے پیچھے آنے والوں کوخبردار کرتا ہے تاکہ محتاط رہیں، یہ بھی ایک اچھا عمل ہے، اسی طرح ٹریفک جام یا کسی بندش یا حادثہ سے سڑک پر رکاوٹ ہونے کے بھی مخصوص اشارے ہوتے ہیں۔اور پیچھے آنے والی ٹریفک کو بروقت اطلاع دی جاسکے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ کہیں پولیس یا ٹریفک پولیس نظر نہیں آئی سوائے چیک پوسٹیں آتی تو ٹریفک کی رفتار سست ہوتی، پولیس کا کوئی نوجوان کھڑا ہوتا ایک نظر دیکھتا اور ہلکے ہاتھ کے اشارے سے گذرجانے کا کہہ دیتا اور اگر کہیں کسی گاڑی کو روکنا مقصود ہوتا تو اسے ایک طرف گاڑی کھڑی کرنے کا کہتے۔ اس کاروائی کیلئے ایک سپاہی کافی ہوتا ہے کیونکہ وہاں جمہوریت نہیں ایک مضبوط شہنشاہی نظام قائم ہے جسکا اپنا رعب و دبدبہ ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عام آدمی ظلم و جبر کا شکار ہے بلکہ اپنے شہری کو ہر سہولت فراہم کررکھی ہے، دنیا کی ہر سہولت ان کی دہلیز پر موجود ہوتی ہے، امیر اور غریب کا فرق نہیں ہے۔لیکن ایک بات طے ہے عربی کو مقامی ہونے پر فخر ہے اور عجمی پھر عجمی ہے۔ یہ تفریق فطری بھی ہے کیونکہ انہیں عربی ہونے پر فخر ہے اور ہمیں وہ صدیوں سے عجمی کہتے ہیں۔لیکن یہ تفریق میرے مشاہدہ میں ہیں ہے۔ دیگر عجمیوں کی نسبت بر صغیر اور باالخصوص پاکستانیوں کے رویوں اور بد اعمالیوں کی وجہ سے شرفا کو عرب میں داخلے پر دقت ہوتی ہے۔ ہمارے لوگ بنک فراڈ میں چوری ڈکیتیوں، قتل میں ملوث ہیں اور ان کا نظم و نسق متاثر ہوتا ہے، سڑکوں پر مانگنے کا عمل بھی دیکھا، مسجد نبوی اور حرم کعبہ میں جیب کترے اور جیب کٹنے کے نام پر آنے والوں سے رقم کا تقاضہ کرتے ہیں۔ بھیک مانگنے والوں میں خواتین کی کثرت ہے۔ ہمارے لوگ ہی وہاں بلاتے ہیں اور ہر دھندے میں ملوث ہیں۔ سعودی عرب، دبئی وغیرہ نے پاکستانیوں اور باالخصوص ہمارے اضلاع کے لوگوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ جسکی وجہ سے کاروباری حضرات اور مختلف کمپنیوں اور اداروں میں کام کرنے والوں کو مشکلات درپیش ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے ایئر پورٹوں سے سعودی، دبئی ہر جگہ پر کوٹ جرابیں سر پر رکھی ٹوپیاں اتروائی جاتی ہیں اور شرفا تماشہ بنے کھڑے ہوتے ہیں۔ اگرچہ راقم الحروف ریاض کے سفر کے بارے میں آگاہی دینا چاہتا تھا لیکن مذکورہ باتیں بھی بہت ضروری ہیں تاکہ سندرہے۔ قارئیں کرام! اس سفر ریاض میں دور دور تک آبادی نظر نہیں آتی تھی البتہ سرخ و سفید اونٹوں اور کالے رنگ کے اونٹوں کی بڑی تعداد نظر آتی رہی، اسی طرح بھیڑ بکریاں بھی سڑک ے دونوں اطراف میں نظر آئیں۔ 

یہ بات یقینی ہے کہ ان کو ھانکنے والا کوئی بندہ بھی ضرور ہوگا۔ چند خیمے نظر آتے تھے۔ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو بھی ان کا نگران ہو وہ اپنا وقت موسم کی شدت کے باعث اس خیمے میں ہی اپنے شب و روز گزارتا ہو گا جن میں اکثر لوگ ہمارے علاقوں سے گئے ہوئے ہیں، عرب لوگ اونٹوں بھیڑ بکریوں کی طرح آج بھی گھوڑوں کے شوقین ہیں، گھوڑوں کی نقل و حمل بھی دیکھی گئی  بڑے لوگوں کے فارم ہاؤس بھی دیکھے گئے، عرب باشندے بڑے گھروں میں رہتے ہیں لیکن وہ چھٹیوں کے دنوں میں صحرا میں خیمے لگاکر اپنے دوستوں اور فیملی کے ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ رات کو کھانے بناتے ہیں اور پسندیدہ ڈشوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں، ریت پر بیٹھنا ان کو بھلا لگتا ہے، چند لوگ رات گذار کر صبح واپس چلے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ہفتہ وار چھٹیاں اپنے فارم ہاؤسز یا خیموں میں گذارتے ہیں۔ تقریباً آٹھ گھنٹے سفر کے بعد ہم ریاض پہنچے۔ اس سفر میں مختلف مقامات پر پیٹرول پمپ خریداری کیلئے بڑی دکانیں، مساجد اور غیر ملکی فوڈ چین کے بورڈ آویزاں تھے تاکہ مسافروں کو ہر قسمی کھانا میسر ہو سکے۔ دور دراز علاقوں میں چھوٹی بستیاں، آبادیاں تھیں اور انٹر چینج بنا کر انہیں ہر قسمی بنیادی ضرورتیں بہم پہنچائی گئیں ہیں۔ عزیزی ڈاکٹر حسنین محمود نے گاڑی ڈرائیو کی اس سے گفتگو اس لیے بھی نہیں کی تاکہ اس کی توجہ اپنے کام پر رہے۔ تاہم ایک شہر جس کا نام حائل ہے۔وہاں رکے کھایا پیا، نماز عصر اداکی اپنا سفر دوبارہ شروع کیا اور ایک بڑا شہر جسکی نشاندہی بڑی واضع تھی وہاں پر رکے، پمپ، مسجد اور دیگر ضروریات کی سہولت موجود تھی۔ ہم نے وضو کیا، مسجد میں داخل ہوئے تو نماز مغرب پڑھنے والے اپی اپنی گاڑیوں سے اتر کر نماز ادا کررہے تھے ان میں سے ہی ایک شخص نماز پڑھا رہاتھا اور باقی تمام مقتدی تھے۔ ہم نے بھی نماز مکمل کی، دوسرے لوگ بی اپنی اپنی جماعت کراتے۔ جو نماز میں شامل ہوتے تو وہ نماز ادا کرتے جگہ نہ آنے والے چاہے وہ دو ہیں یا تین اپنی جماعت کراتے جو بہت اچھا لگا اور قابل تقلید ہے۔ البتہ دوسری اہم بات کہ وہ نماز عشاء کے لیے بھی جماعت کرارہے تھے اور سب نے ایسا ہی کیا۔ میں ذاتی طور پر جمع کرنے کا قائل ہوں لیکن برادرم ڈاکٹر محمود حیران تھا۔ اس حیرانی پر ایک اردو بولنے والے نے بتایا کہ ظہر اور عصر، مغرب عشاء کو دوران سفر یہ ملا کر پڑھتے ہیں مگر اس نے کہا کہ ہم گھر پہنچ کر پڑھیں گے۔ یہ تاریخی شہر القسیم تھا۔ بقایا اگلی قسط میں۔

 

Next Post Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url