Visit Our Official Web ادائیگی عمرہ اور روضہ رسولؐ پر حاضری Dastan Gou Dastan Gou داستان گو

ادائیگی عمرہ اور روضہ رسولؐ پر حاضری



کو ہ سلیمان سے 

احمد خان لغاری 

گذشتہ چار سال سے غم دوران میں شدید الجھا رہا لیکن اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں تھا اور ہمیشہ پر امید رہا کہ ایک بار پھر عمرہ کیلئے ضرور جاؤں گا اور رحمتہ العالمین کے دراقدس پر حاضری دوں گا اللہ کے حضور جو گذرشات پیش کر آیا تھا ان کی بابت بیان کروں گا، جوخصوصی کرم ہوئے ان کا شکریہ تو ادا کرتارہوں تو بھی کم ہے۔ لیکن وہاں جاکے سپاس گذار ہونا اور بات ہے اور پھر مزید مانگنے کا مزا ہی نرالا ہوتا ہے۔ اپنے معاملات اسی رب تعالی کی توفیق سے سلجھانے اور نمٹائے تو پہلا کام یہی کیا اور جانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس بار میرے ساتھ میری رفیقہ حیات تھی جو پہلی بار جارہی تھی ہم جنوری کے پہلے عشرہ میں جدہ کیلئے عازم سفر ہوئے، عزیزی ڈاکٹر حسنین محمو د جدہ میں ہمارے منتظر تھے چونکہ ان کے اہل وعیال مکہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے آئے تھے۔ ریاض سے مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کرلیا تھا تو ہم نے بھی ایک ہی جگہ پر اکٹھے ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ جدہ سے مکہ پہنچ کر اپنا سامان ہوٹل میں رکھا اور سب نے ہمارے ساتھ ملکر دوبارہ عمرہ کرنے کا قصد کر رکھا تھا۔ رات کو عمرہ ادا کیا، عزیزی ڈاکٹر حسنین محمود نے ہمارا ہاتھ پکڑے رکھا، نوافل اداکیے اور صفا مرویٰ کی سعی کیلئے روانہ ہوئے۔ عجیب نظارہ تھا۔یقین نہیں آتا جب مطاف میں داخل ہونے سے پہلے خانہ کعبہ پر نظر پڑتی ہے تو بندہ تڑپ جاتا ہے۔ میری ہمسفر کا ذوق شوق دیدنی تھا اور اسے بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ ہم کس بارگاہ میں کھڑے ہیں اپنے مالک و خالق کے سامنے شرمندہ تھے سوائے آنسوؤں کے اور کچھ نہیں تھا، ماضی، حال اور مستقبل اس کے سامنے تھا، حسب سابق چندہ وعدے کیے دعائیں تھیں، خواہشیں تھیں، معافیاں تھیں،شکایات بھی سامنے رکھ دیں، دوتین دن یہی معمول رکھا، احرام کے بغیر مطاف میں داخلے پر پابندی تھی لوگ انتظامیہ کی آنکھوں میں بھی دھول جھونکتے اور ان کا رب تو دیکھ ہی رہا ہوتا ہے۔ عام کپڑوں میں لوگ کسی اور جگہ برآمدوں میں یا صفا مرویٰ کے راستوں میں بیٹھے رہتے۔ اور نماز کے اوقات میں طواف اور صفا مروہ میں بھی آنا جانا بند ہو جاتا تھا، اسطرح لوگ نمازیں بھی پڑھ لیتے اور جالیوں سے خانہ کعبہ کا نظارہ بھی کرلیتے۔ لوگوں کیلئے مشکلات ہیں، لیکن انتظامیہ کیلئے ہجوم کو کنٹرول کرنا زیادہ مشکل ہے، تاہم خانہ کعبہ کی عمارت کے سامنے بیٹھا رہنا باعث اطمینان ہوتا ہے جواب مشکل بنا دیا ہے۔

الوداعی شدید جذبات کے ساتھ پھر آنے کا عہد کرکے اگلے سفر مدینہ طیبہ کا قصد کیا، ہمارا پورا گھرانہ ایک ہی گاڑی میں مدینہ طیبہ کیلئے روانہ ہوئے، شام کو پہنچے، تھوڑا فاصلے پر رہائش کا اہتمام تھا۔وہ ایک اپارٹمنٹ تھا جس میں ہم خود کھانہ اور چائے بنا سکتے تھے۔ اگرچہ فاصلہ زیادہ نہیں تھا،لیکن سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی وجہ سے پیدل آنا جانا مشکل تھا، گاڑی کیلئے مسجد نبوی میں انڈرگراؤنڈ پارکنگ رش کی وجہ سے بند کر دی جاتی تھی، اس طرح ٹیکسی آسان ذریعہ تھا۔ مسجد نبوی میں نمازیں پڑھتے رہے، بعدازاں ایسی جگہ پر بیٹھ جاتے جہاں روضہ اقدس سامنے ہو یا پھر مسجد نبوی کے اس حصہ میں بھی لوگ بیٹھنے کو ترجیح دیتے ہیں، جہاں سے سبز گنبد نظر آتا ہے، سامنے خیر الوریٰ ہوں تو اپنی باتیں کرنے کا مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ اپنا اپنا خیال ہوتا ہے، دل کی باتیں یہاں کرکے سکون ملتا ہے، مواجہ شریف کیلئے حاضری بھی ایک ترتیب سے ہوتی ہے اور ریاض الجنہ میں جانے کیلئے تو ایک خاص ایپ کے ذریعے وقت لیا جاتا ہے جو کم وقت میں ملنا مشکل ہوتا ہے، دونوں جگہ پر زیادہ رکنا محال ہوتا ہے۔ دراقدس پر حاضری کیلئے داخل ہوا تو بہت رش تھا اور وہاں لمحہ بھر کیلئے رکنے نہیں دیتے، لمحہ بھر رکنے والے، آنکھوں کی پیا س بجھا نے والے کو باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔ راقم بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہوا تو ایک لمحے کو رکا تو مجھے جانے کا اشارہ دیا تو میں نے ہاتھ جوڑ دیے تاکہ ایک لمحہ رک سکوں۔ میری اس ادا پر اس دربان پر شاید اثر ہوا ہوگا کہ اس نے اپنا رخ دوسری جانب کر لیا تو میں سمجھا کہ میری حاضری منظور ہوگئی، مرے وارے نیارے ہوگئے اور خواہش کے مطابق رک کر سلام عرض کیا اور دوبارہ حاضری کی درخواست کی۔ یہی سلسلہ جاری رہا، نمازیں بھی پڑھیں، گنبد خضرا کے سائے میں بیٹھے رہے، اپنے دل کی باتیں کیں، جی تو جاہتا تھا کہ وقت تھم جائے اور باتیں ختم نہ ہوں۔ میرے ساتھ جانے والوں کی یہی خواہش تھی، جمعہ پڑھا، دوران خطبہ ایسے محسوس ہوا جیسے مجھے کوئی نصیحتیں کر رہا ہے اور میں جواب میں اپنے آقا سے آئندہ کیلئے پیر دی اور بھرپور پابندی سے اعمال صالح کے وعدے اور یقین دھانیوں میں مصروف تھا۔ سابقہ حاضری سات دن پر محیط تھی مگر اس بار وقت نے ساتھ نہ دیا اور الوداع کہہ دیا۔غم دوراں بھی عجیب روگ ہے۔ روزی روٹی اور ملازمت کے بندھن بھی عجیب پاؤں کی بیٹریاں ہیں، یہی پابندیاں پا بجولاں رہیں۔ میرے پاس تو وقت تھا لیکن میرے دیگر احباب واقربا جنہوں نے ہمارے ساتھ رہ کر یہ سارے مواقع فراہم کیے ان کے ساتھ ریاض جانا ضروری تھا۔ اسطرح ہم عازم ریاض ہوگئے اور مسجد نبوی کے مینار آنکھوں سے غائب ہوگئے۔ مڑکے دیکھا تھا لیکن اب ہم بہت دور آچکے تھے۔ مدینہ سے ریاض کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط تھا، مختلف رنگوں کے پہاڑ اور ریت ایک طویل حیرت کدہ تھا۔ لیکن مکہ اور مدینہ آنکھوں میں سمائے رہے، ریاض اپنے گھر پہنچے تو عزیزی عدیل خان لغاری نے دوبارہ عمرہ کیلئے کہا کہ اس ہفتے جائیں گے اور واپس آسکتے ہیں۔ لیکن اپنی عمر اور صحت کی بنا پر فیصلہ کرنے سے قاصر رہا۔ سفر بہت طویل ہے اور صحت اجازت نہیں دیتی تھی، جانے سے پہلے بھی صحت اچھی نہ تھی لہذا عزیزی عدیل خان کا شکریہ اداکیا اور بقیہ دن ریاض میں ہی بچوں کے ساتھ گذرے اور خاندان کے ساتھ وقت گزارا۔ ان شاء اللہ اگر اللہ عزوجل کو منظور ہوا تو ضرور پھر حاضری دوں گا، یہی وعدہ کرکے آیا ہوں۔ اہلیہ محترمہ کا اضطراب تو ابھی سے دیدنی ہے۔ آخر کار ریاض جو سعودی عرب کا دارالخلافہ ہے بہت بڑاشہر ہے طویل و عریض شہر قابل دید ہے، وہاں جو کچھ دیکھا اس کی روداد آئندہ قارئین کیلئے پیش کروں گا جو جلد سپرد قلم کروں گا۔ ان شاء اللہ۔ 


Next Post Previous Post
No Comment
Add Comment
comment url